کنداپور2/مارچ (ایس او نیوز) منی ددھان سودھا کے اندر اچانک پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا وہاں پر موجود لوگوں کو حیران اور مشتعل کرنے والے راگھویندرا گانیگا (43سال)کے خلاف ملک سے غداری کا کیس داخل کرتے ہوئے پولیس نے اسے گرفتار کرلیا ہے۔
اڈپی کے اے ایس پی کمارا چندرا نے بتایا کہ ”یہ شخص کوڈی کا رہنے والا ہے۔اس خلاف کنداپور پولیس اسٹیشن میں ملک سے دشمنی کا کیس درج کرلیا گیا ہے۔اس کے بیان میں یکسانیت اورتسلسل نہیں ہے۔ اس کی ذہنی حالت کے بارے میں ہم فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے۔ طبی جانچ کے بعد جب رپورٹ مل جائے گی تب اس کے بارے میں تفصیلات جاری کی جائیں گے۔اڈپی ضلع ایس پی کی طرف سے جو پریس نوٹ جاری کیا گیا ہے اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان زندہ باد کے علاوہ ملزم نے جہاد زندہ باد کے بھی نعرے لگائے تھے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق گانیگا صبح 9:45 بجے کے قریب منی ودھان سودھا میں داخل ہوا۔عمارت کی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے اس نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کیے۔اور کوریڈور سے گزرتے ہوئے اس نے نعرے بازی جار ی رکھی۔ کچھ مقامی لوگوں نے اس کی اس حرکت کی ویڈیو کلپ بنالی۔ کنداپور تحصیلدار نے اس معاملے کی اطلاع ملنے پرملزم کے خلاف ایک تحریری شکایت پولیس کے پاس درج کروائی۔اس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ملزم کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ جب راگھویندرا پاکستان زند ہ باد کے نعرے لگارہا تھا تو اس وقت منی وھان سودھا میں کئی لوگ موجود تھے، لیکن عوام نے پولیس کے آنے تک صبر وتحمل کے ساتھ اس کی حرکت کو برداشت کیا۔
راگھویندرا کے بارے میں جو خبریں اس وقت گشت کررہی ہیں اس کے مطابق وہ کچھ سال پہلے شیموگہ کے ایک نجی اسکول میں ہندی کا ٹیچر تھا۔ وہ شادی شدہ ہے اور اس کا ایک چھوٹا سابچہ بھی ہے۔ مگر پچھلے کچھ عرصے سے وہ بیوی اور بچے سے الگ ہوگیا ہے اور اپنی ماں کے ساتھ رہتا ہے۔ مبینہ طور پر اس کی ماں اسے دماغی علاج کے لئے کنداپور کے ماتا اسپتال لائی تھی، اس دوران اس نے منی وھان سودھا میں پہنچ کر یہ حرکت کرڈالی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کوڈی کے رہنے والے ایک جوڑے نے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے راگھویندرا کو اپنے بیٹے کے طور پر اپنایا تھا۔ راگھویندرا جس کا لے پالک بیٹا ہے، وہ شخص پیٹ پالنے کے لئے اومنی کار کرایے پر چلانے کا کام کررہا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ نوکری چلے جانے کے بعد اس کی دماغی حالت مزید بگڑنے کی وجہ سے ماہانہ علاج پر کافی رقم خرچ کی جارہی ہے۔ جس کا انتظام مقامی افراد اور رشتے داروں کی جانب سے کیا جارہا ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے امولیا اور آرودھرا جیسے لوگوں کی جانب سے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے اور انہیں ٹی وی پر بہت زیادہ کوریج دئے جانے کا اثر راگھویندرا کے ذہن پر بھی ہوا ہوگا اور مسلسل ٹی وی پر یہ خبریں نشر ہوتی دیکھ کر اس نے ایسی حرکت کی گئی جس سے وہ لوگوں کی توجہ حاصل کرسکے۔ اب چونکہ پولیس نے اس کی طبی جانچ شروع کردی ہے، اس لئے میڈیکل رپورٹ آنے تک راگھویندرا کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچنا مشکل ہے۔